26 اپریل 2018 - 04:45
شام میں عرب فوجی دستوں کی مداخلت پر شام کا پہلا رد باضابطہ رد عمل

تہران میں تعینات شام کے سفیر نے کہا ہے کہ شام کی سرزمین پر غیر قانونی طور پر تعینات فوجی ہمارے نزدیک قابض فوجی سمجھے جاتے ہیں، اور اگر ان کی جگہ عرب فوجی دستے بھی یہاں آنا چاہیں تو انہیں بھی قابض سمجھا جائے گا اور ان کے ساتھ وہی رویہ اپنایا جائے گا جو قابض افواج کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران میں تعینات شام کے سفیر مصطفی محمود نے العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: شام کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکیوں کی شام میں تعیناتی قبضے، کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین نیز شام کی ملکی سالمیت کی کھلی خلاف وزری کے زمرے میں آتی ہے اور ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب یا کسی بھی دوسرے ملک کے فوجی دستوں کی آمد بھی قبضے اور جارحیت کے زمرے میں آئے گی اور شامی عوام اور مسلح افواج ان سے بین الاقوامی قوانین اور ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے دستوں کے طور پر نمٹ لیں گی۔

تہران میں شام کے سفیر نے کہا: ہم نے بارہا دہرا دہرا کر کہا ہے کہ شامی حکومت سے ہمآہنگ ہوئے بغیر کسی بھی غیر ملکی کی تعیناتی بین الاقوامی قوانین اور ہماری ملکی سالمیت کی خلاف ورزی ہے اور اسی بنیاد پر ان سے نمٹا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰